شیر شاہ سوری
یہ آج سے تقریباً 500 سال قبل سنہ 1528 کی بات ہے، ہندوستان کے دارالحکومت آگرہ میں گہما گہمی ہے۔ مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر چندیری کی فتح کے بعد آگرہ لوٹ آئے ہیں اور بابر کی حکمرانی ہندوستان پر قائم ہو چکی ہے۔ فتوحات کے ساتھ شاہی ضیافت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امرا اور سرداروں کی دعوت میں طرح طرح کے کھانے آئے دن لگائے جاتے ہیں۔ ایک دن اسی قسم کی ایک ضیافت میں مرغ، مچھلی، ہرن کے گوشت، کباب، پلاؤ، نان کے ساتھ مختلف کھابوں میں ماہیچے بھی دسترخوان پر رکھے گئے۔ بادشاہ بابر بھی اپنے امیروں اور وزیروں کے ساتھ وہاں موجود ہیں کہ ان کی نگاہ ایک افغان سردار پر پڑتی ہے جو ماہیچے کو کھانے کا طریقہ نہیں جانتا لیکن اپنے انداز میں خنجر نکال کر اس کی قاش کر کے اسے آرام سے کھا رہا ہے۔ بادشاہ بابر کے دل میں اس کے چہرے کے اطمینان اور اس کے کھانے کے انداز کو دیکھ کر تشویش پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے پاس موجود اپنے وزیراعظم اور افغان سردار شاہ جنید کے بھائی میر خلیفہ وزیر اعظم سے کہتے ہیں کہ اس شخص کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خلفشار کا باعث بنے گا، 'اسے فورا گرفتار کر لیا جائے۔' یہ بھی پڑھیے خلیفہ وز...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں