اشاعتیں

مئی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

م‍‌‌سلمانوں کی ‏پیچھے ہا ‏تھ دھو ‏کر ‏پڑا سنگھ پریوار لکشادیپ میں شراب ‏چالو ‏-گوشت ‏بند ‏

#لکشدیپ_کے_ہندوتوا_کرن_کی_کوششیں مسلم اکثریتی جزیرے پر سَنگھی قبضے کی خطرناک کوششوں کےخلاف آواز اٹھائیے:   میں یہ مضمون شروع کرنے سے پہلے ہی ہندوستان اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو، اور انصاف پسند انسانوں کو دعوت دیتاہوں کہ ۔ وہ زندہ۔ضمیر ہیں تو آگے آئیں اور لکشدیپ کے باشندوں کے حقِ حریت کے ليے سرگرم ہوجائیں، لکشدیپ میں جوکچھ ہورہاہے وہ  توسیع پسندانہ فاشسٹ عزم ہے، یہ نسل پرستانہ بالادستی کا اقدام ہے، ایسی کارروائی نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے لیے شرمناک بھی ہے اور خطرناک نظیر بھی ہے، اسلیے اس کےخلاف ایسی مؤثر کوششیں ہونی چاہییں جوکہ ناصرف لکشدیپ کو بچا سکیں بلکہ آئندہ ایسے ہر فاشسٹ توسیعی عزم کی حوصلہ شکنی کریں ۔  *لکشدیپ کا معاملہ یہ ہیکہ ۔ وہ ایک جزیرہ ہے، وہاں کی 96% آبادی مسلمانوں کی ہے، وہاں پر نفرتی فضاء، طبقاتی ظلم و زیادتی، مذہبی منافرت، دنگے فساد اور مجرمانہ معاملات کا ریکارڈ فیصدی 0 ہے،* جبکہ وہاں غير مسلم اقلیتی بشمول بظاہر ہندو کہلانے والے بھی بستے ہیں لیکن اکثریتی مسلم آبادمیں طرف سے ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ وہ اہلِ اسلام کی چھاؤں میں رہت...

سماجی ‏بیداری ‏ ‏اور ‏ہم ‏

    سماجی بیداری درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو آج   جوکچھ لکھ رہا ہوں یہ وہ حالات ہیں جس کا تجربہ مجھے خود ہوا ہے ایک دن بیٹھا تھا اپنے دُکان پر   ایک بوڑ ھی عورت آئی اور مجھ سے میرے گھر والوں کا   حال پوچھنے لگی   میں نے کہا سب ٹھیک ہیں اور پھر ان سے پوچھا کے آپ   ہماری فیملی کو کیسے جانتی ہیں انہوں نے کہا میں آپکے   تا یا کے گھر کام کیا کرتی تھی اور عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کام بھی نہیں کرپاتی ہوں آپکے والدہ اور تایا زاد بھائی میری کچھ مدد کردیا کرتے ہیں آپکی دُکان میری گھر سے نزدیک ہے اور آپ کا گھر بہت دور ہے اسلئے سوچا کے آپ کو اپنی والدہ سے پوچھ کر میری کچھ مالی مدد کردیں گے تو بہت اچھا ۔ خیرمیں نے انکی جو مدد کرسکتا تھا وہ اسی وقت کردی اور بعد میں والدہ کو بھی پوچھا اور بتایا اس نام بوڑھی خاتون آئیں تھی تو میں انکو کچھ معالی مدد کردی ہے والدہ نے یہ سن کرکہا کہ اچھا کیا جو پوچھنے کے لیئے وقت برباد نہیں کیا اور انکی مد د کردی ۔                دوستو ں قصہ یہاں پر ...

شیر ‏شاہ ‏سوری ‏

یہ آج سے تقریباً 500 سال قبل سنہ 1528 کی بات ہے، ہندوستان کے دارالحکومت آگرہ میں گہما گہمی ہے۔ مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر چندیری کی فتح کے بعد آگرہ لوٹ آئے ہیں اور بابر کی حکمرانی ہندوستان پر قائم ہو چکی ہے۔ فتوحات کے ساتھ شاہی ضیافت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امرا اور سرداروں کی دعوت میں طرح طرح کے کھانے آئے دن لگائے جاتے ہیں۔ ایک دن اسی قسم کی ایک ضیافت میں مرغ، مچھلی، ہرن کے گوشت، کباب، پلاؤ، نان کے ساتھ مختلف کھابوں میں ماہیچے بھی دسترخوان پر رکھے گئے۔ بادشاہ بابر بھی اپنے امیروں اور وزیروں کے ساتھ وہاں موجود ہیں کہ ان کی نگاہ ایک افغان سردار پر پڑتی ہے جو ماہیچے کو کھانے کا طریقہ نہیں جانتا لیکن اپنے انداز میں خنجر نکال کر اس کی قاش کر کے اسے آرام سے کھا رہا ہے۔ بادشاہ بابر کے دل میں اس کے چہرے کے اطمینان اور اس کے کھانے کے انداز کو دیکھ کر تشویش پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے پاس موجود اپنے وزیراعظم اور افغان سردار شاہ جنید کے بھائی میر خلیفہ وزیر اعظم سے کہتے ہیں کہ اس شخص کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خلفشار کا باعث بنے گا، 'اسے فورا گرفتار کر لیا جائے۔' یہ بھی پڑھیے خلیفہ وز...