سماجی ‏بیداری ‏ ‏اور ‏ہم ‏

 

 

سماجی بیداری

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

آج  جوکچھ لکھ رہا ہوں یہ وہ حالات ہیں جس کا تجربہ مجھے خود ہوا ہے ایک دن بیٹھا تھا اپنے دُکان پر  ایک بوڑ ھی عورت آئی اور مجھ سے میرے گھر والوں کا  حال پوچھنے لگی  میں نے کہا سب ٹھیک ہیں اور پھر ان سے پوچھا کے آپ  ہماری فیملی کو کیسے جانتی ہیں انہوں نے کہا میں آپکے  تا یا کے گھر کام کیا کرتی تھی اور عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کام بھی نہیں کرپاتی ہوں آپکے والدہ اور تایا زاد بھائی میری کچھ مدد کردیا کرتے ہیں آپکی دُکان میری گھر سے نزدیک ہے اور آپ کا گھر بہت دور ہے اسلئے سوچا کے آپ کو اپنی والدہ سے پوچھ کر میری کچھ مالی مدد کردیں گے تو بہت اچھا ۔ خیرمیں نے انکی جو مدد کرسکتا تھا وہ اسی وقت کردی اور بعد میں والدہ کو بھی پوچھا اور بتایا اس نام بوڑھی خاتون آئیں تھی تو میں انکو کچھ معالی مدد کردی ہے والدہ نے یہ سن کرکہا کہ اچھا کیا جو پوچھنے کے لیئے وقت برباد نہیں کیا اور انکی مد د کردی ۔

               دوستو ں قصہ یہاں پر نہیں ختم ہوتا میں نے بوڑھی خاتون سے پوچا کے کیاآپ اکیلی رہتی ہیں تو انہوں نے جو بتایا وہ سن کر بڑا افسوس ہوا انکا ایک بیٹا ہے اور ایک بیوہ ہیں اور بیٹا جب بڑا ہو اتو کام کرنے کے کسی فیاکٹری کو جاتا تھا لیکن ایک دن فیکٹری میں آگ زنی کا حادثہ ہو گیا اور ادھ جلی حالت میں اب بستر سے لگ گیا اسکے دو بیٹے تھے بوڑھی ماں نے قسمت کے آگے جھک کر ان بچوں کوبڑا کیا اور شادی بھی کردی ۔لیکن ان بچوں نے انکو اپنے ساتھ نہیں رکھا بلکہ وہ اب بھی لوگ کی مدد پر انکا گذر بسر چل رہاہے۔حیرت کی بات جس بوڑھی دادی  نےان کو تربیت دی اور بڑا کیا وہ اسکو ہی بھول گئے ۔اوراپنی بیوی بچوں میں مصروف ہیں 

جاری ہے ۔

بقلم

   عمر فاروق ۔ایم ۔ انعامدار۔

تبصرے

  1. Allah ta'ala sahi samaj ata kare hamre moushre ko ,

    جواب دیںحذف کریں
  2. یا اللہ تمام اولادوں کو بوڑھا پہ میں اپنے ماں باپ کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ تا دیر تک ہمارے ماں باپ کا سایہ ہمارے سروں پر رکھے آمین

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آمین بیشک ے ہماری غفلت کا نتیجہ ہے کے ہماری قوم کے نوجوان دنیاوی خواہشات میں مبتلا ہو کر اپنے حقوق کو بھلا بیٹہے ہیں اس میں کوئ شک نہں کے کہں نہ کہں اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں ہم غلتی کر رہے ہیں اور پھر بڑھاپے میں اس کے نتائج ہمیں بھگتنے پڑتے ہیں گھروں میں دینی و دنیاوی تعلیم سہی نہ ملنے کے یہ نتائج ہوتے ہیں جو ہمیں خود کو بھگتنا پڑتا ہے

      استغفرالله العظیم

      حذف کریں
  3. Bahot hi achi koshish hi nahi balke mai kahunga ye ek muhim honi chahiye Jisme hum aj ke dour me un logon ko bataye jo apne Ma-Baap ko be yaro madadgar chod dete hain.... Unhi ki badolat to wo is duniya me aye aur aage unko bhi aulad hogi jo unke saath bhi ye kar sakti hain

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. میرا یہ مضمون اسی سلسلے کی طرف ایک قدم ہے آپ جیسے افراد کی ضرورت ہے ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے۔

      حذف کریں
  4. Allah taa'la sab ko apne buzurgon ki izzat aur khidmat karne ki taufeeq ata farmaye

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شیر ‏شاہ ‏سوری ‏

نوجوانوں کی تربیت ‏