بیداری - ‏آزادقوم ‏کا بیدار ‏ہونا ‏ضروری ‏ہے۔ ‏

 

بیداری  آج کی وقت کی  سب سے ضروری چیز ہے 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

بیداری

آج کل ہر طرف آزادی کے نعرے  لگ رہے ہیں اور ہم بیو قوفوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے ہمیں بھی آزادی چاہیے کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں ۔ جبکہ ہمیں آزادی نہیں بیداری کی ضرورت ہے۔

اب آپ پوچھیں گے یا سوچیں گے  بیداری کس چیز کی  اورکس لئے جب کے آزادی والانعرہ توبڑا مشہور ہو چکا ہے۔  میں کہتا ہوں آزادی ہمارے آباو اجداد نے  70  سال پہلے ہی قریباََ  سال 250  تک جان و مال کی قربانیاں دے کر حاصل کرلی تھی ۔وہ لوگ جنہوں نے اُس وقت آزادی کا نعرہ بلند کیا وہ بیدار تھے اُن سوئے ہوے لوگوں کے درمیان اور اس کا ثمر ہمیں آزادی کی صورت میں ملا ۔اور وہ سب کی جدوجہد کا نتیجہ تھی اورکسی ایک قوم کویہ دعوہ  نہیں  ہو سکتا کے ہماری اکیلے کی کوشِش نے ہم کو آزادی دلائی تھی۔ہاں مگر آزادی  کی مہم کی  شروعات مسلم قوم کے بیدار اور بیباک  و مخلص  حضرات  نےکی اور اس میں کوئی دورائے نہیں ۔

شہریت کے اس کالے قانون کوعدالت عالیہ میں چالینج کرنے والے بھی سب سے پہلے کچھ ایسے ہی جیالے  انڈین یونین مسلم لیگ کے  4 ایم۔پی۔ ہیں ۔ جنہوں سے سب سے پہلے اس ناپاک قانون کو پرزورطریقے سے ایوان بالا میں اس قانون کے مسودے  کےخلاف اپنا اُوٹ دے کر اپنا اور قوم کا احتجاج بلند کیااور قوم کے ایک بیدار مغز لیڈر ہونے کا ثبوت بھی دیا اور پھر پچھلے 3 مہینوں سے ریاست ِکیرلہ ، تمل ناڈو ، مہاراشٹرہ اور ملک کی دیگر  ریاستوںمیں  پر زور اندازمیں لگاتار احتجاج کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

دہلی میں طلباء کے ساتھ لگاتار تال میل بنائے رکھا گیا ہے اور ہر ممکن قانونی امداد کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ کے  نوجوانوں  کی تنظیم کے قومی صدر صابرغفار  اور جنرل سیکریٹری سی۔کے ۔سوبیر  لگاتار ملک کے دورے کر رہے ہیں اور لوگوں کے درمیان پہنچ کر ان کی حوصلہ افضائی کر رہے ہیں ۔ ان کے علاوہ مہاراشٹرہ  کا ناگپور میں مسلم یوتھ لیگ کے نائب صدر زُبیر خان بھی اپنی سرپرستی میں ایک شاہین باغ کا انقعاد کر رکھا ہے جسمیں ملک کئی  اسکالر اس  باغ  میں آکر لوگوں کا حوصلہ بڑھا   رہے ہیں ۔

یہ سب بیدار ہیں اسلئے اتنا  سب کچھ کرپارہے ہیں لہذا آپ تمام لوگ بھی بیدار ہو جائیں غفلت کی اُس نیند سے جو ہم  سب  کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ بہتر ہے کہ ہم ابھی سے  خود بھی بیدار ہوں اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی  بیدار  کریں۔ یہ سب مصیبتیں لانے والی کوئی سیاسی جماعت  ہوسکتی ہے اور ہے بھی  لیکن بہت حد تک ہماری بے پرواہی اور ایک خاص سیاسی جماعت کی  اندھا دھند  تقلید  ہے جو صرف ہم کو اُوٹ لیکر  اگلے الیکشن تک کے لئے بھول جاتی تھی اور جب بھی ہماری قوم سے کو ئی رہنما  قوم کی صحیح رہنمائی کرنے  کےلئے آگے بڑھا یا تو اسکو   بدنام کیا گیا  یا پھراسکو  کسی جھوٹے کیس میں پھسانے  کی سازش کی گئی  اور یا   اسکو  منظر عام سے ہٹا دیا  گیا ۔

                       بیداری ایک انعام  جو ہم سب کو ایک بنانے  کے لئے  نہایت ضروری  کڑوی دوا کی طرح  ہے اسکے لئے محنت بھی اچھی خاصی لگے  گی اور وقت و سرمایا خرچ ہوگا  لیکن اسکا  نتیجہ  بڑا ہی شاندار ہوگا  کوئی  مائی لعل آپ کو غلط نظر سےنہی  دیکھ پائے گا  کوئی  آپ کی  عزت کو پامال کرنے کے بارے خیا ل  تک نہ لا سکے گا۔ بس  ان سب چیزوں کو حاصل کرنا ہے تو بھائیوں بیدار ہو جاؤ اور اپنےحال  کو دیکھتے ہوئے مسقبل  کا اندازہ  تو  آپ لگا ہی سکتے ہو  بیدار ہو گئے تو  یہ تخت  تمہارا  ہے ورنہ  تختہ  پہلے ہی   پلٹہ  جا چکا  ہے ۔

                                                                                                                  جاری ہے۔

 

عمر فاروق ۔ایم۔ انعامدار

قومی نائب صدر مسلم یوتھ لیگ 

تبصرے

  1. آپ لوگوں کی تبصرمیرے لیے خوشی کا سبب ہونگے لہزا تبصرا ضرور کریں ۔

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شیر ‏شاہ ‏سوری ‏

نوجوانوں کی تربیت ‏