بھارت میں مسلمانوں کی قیادت - مسلمانوں کی بیداری the Muslim Leadership In India awakening between Muslims




                مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی قیادت 

   MUSLIM LEADER SHIP 

اسلام علیکم محترمہ بھائیوں اور بہنوں اج کل ہم لوگ سیاست کو اور سیاسی لوگوں کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اپنی ذمہ داری کی طرف دیکھتے ہی نہیں اور ہم سیاست کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ کسی سیاسی لیڈر یا کسی سیاسی نمائندے سرکاری نمائندے کے ایجنٹ یا دیگر الفاظ میں چمچے بن کر ہم لوگ اگر سیاسی سوجھ بوجھ کا کوئی اچھا ثبوت  دے رہے ہیں تو یہ بالکل ایک خواب و خرگوش ہے اس میں ہم لوگ یہ بھول رہے ہیں کہ ہماری اپنی سیاسی پہچان بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اس کی صرف اور صرف وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے سیاسی فیصلے سماجی فیصلے ان لوگوں کے حق میں دے دیے جو کہ اس قابل ہی نہیں اور نہ ہی وہ ہمارے کوئی خیر خواہ ہے کوئی بھی نام نہاد سیکولر سیاسی جماعت ہم مسلمانوں کے حق میں کبھی کوئی صحیح فیصلہ لے ہی نہیں سکتی کیونکہ سیکولر کا مطلب ہی لادینیت ہے اور سیکولر جماعتیں کسی کے دین کی خاطر اپنے پارٹی کے منشور کے خلاف جا کر کوئی کام نہیں کرتے اب تو یہ حال ہے کہ ہمارے اپنے لوگ جو نام نہاد  کے لیڈر بنتے ہیں ایسے پارٹیوں میں عہد پانے کے لیے خود ہمارا اپنے قوم کا نقصان کرنے پر تلے ہوئے ہیں ویسے بہت ساری مثالیں ہیں ایسے بہت سارے واقعات ہیں جن کو دیکھ کر ہمیں سبق لینا چاہیے تھا لیکن ہم ابھی بھی غفلت میں اپنے انکھ کان دماغ سب کو بند کر کے ایک طرح سے اپنی بربادی کے لیے ان لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور اس کا یہ لوگ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں

ہم لوگوں کو کبھی یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ ہم وہ قوم ہیں جس نے ساری دنیا کو حق کے لیے لڑنا سکھایا نہ انصافی کے خلاف کھڑا ہونا سکھایا پھر بھلے ہی اپنے ہوں یا پرائے ہوکسی کو بھی کسی قسم کی نا انصافی کے لیے سزائیں دی گٔی اس کی سب سے بہتر مثال حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جنہوں نے اس وقت کے  نام نہاد خلیفہ کے خلاف  اواز بلند کی کیونکہ بننے والا خلیفہ لائق نہیں تھااور نہ ہی اس کو لوگوں کے ذریعے  چنا گیااورنہ ہی مجلس شوریٰ نے یہ چناتھا یہ ایک زور زبردستی کا خلیفہ تھا جس نے بہت سارے مسلمانوں کی جان لی اور ناانصافی کا بازار گرم کیا ظلم و جبر کیا یہاں تک کہ کعبہ اور مدینہ کے بے حرمتی کی اسی لیے امام حسین نے یزید کی مخالفت کی تھی کیونکہ کوئی نالائق شخص کبھی بھی مسند خلافت پر بیٹھا یا نہیں جا سکتا تھا بالکل اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے سیاسی سماجی اور ملی فیصلے ایسے ہی کسی انسان کے ہاتھ میں نہ سونپے  بلکہ ہمارے فیصلے کرنے والے لوگ اس لائق بھی ہونے چاہیے کہ وہ ہماری ملی ضروریات ہمارے اسلامی غیرت ہماری ملی اخوت کو برقرار رکھتے ہوئے کسی بھی چیز کے سلسلے میں فیصلہ لیں اور اس پر اٹل رہ کر کسی بھی قسم کی ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوں اور ملک و قوم کے لیے اپنی جان و مال لٹانے کے لیے ہما وقت تیار ہو 

اج کل یہ دیکھنے میں  آ رہا ہے کہ ہماری قوم کی رہنمائی ایسے لوگوں کی ہاتھ میں چلی گئی ہے جو کہ نہ دنیاوی طور پر لائق ہے اور نہ مذہبی طور پر ان میں کوئی سیاسی یا مذہبی شعور ہے جو ہماری رہنمائی کر سکے دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ چند غنڈے بدمعاش قسم کے لوگ سود خور جواری اور نہ جانے کیسے کیسے جرائم کرنے والے لوگ ہمارے اداروں کے بڑے بنتے جا رہے ہیں جن کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا جن کا کوئی مقصد حیات مذہبی نہیں ہوتا یہ صرف دنیا کی چاہت میں ہماری ملی حیثیت کو تار تار کرتے رہتے ہیں اور بار بار ایسے لوگ ملک و قوم کو ذلیل کرنے والے فیصلے لیتے ہیں اور اس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے ایسے لوگوں کا ہماری ملی اداروں سے ہماری مسجدوں سے ہمارے درگاہوں سے ہمارے درسگاہوں سے دور رکھنا ہی بہتر ہے اور ان لوگوں کو کسی بھی صورت میں ہمارے کسی بھی ملی اداروں میں جگہ نہیں دی جانی چاہیے ایسے لوگوں کا رہنے کا نقصان ہی زیادہ ہوتا ہے ان سے کوئی فائدے کی امید رکھنا فضول ہے اور نہ ہی ان لوگوں میں کسی قسم کی دور اندیشی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ لوگ قوم ملت کی سربلندی کے تعلق سے کسی بھی قسم کا فیصلہ لینے کے لائق ہوتے ہیں اسی لیے یہ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ جب بھی ہمارے کسی ملی ادارے کا صدر متولی یا سیکرٹری چننے کا موقع ائے تو سب سے پہلے یہی دیکھا جائے کہ جس کو چنا جا رہا ہے اس کا پس منظر کیا ہے اس کا کوئی جرائم سے تو ناطہ نہیں ہے اس کا کسی سودی کاروبار یا کسی غیر اخلاقی قسم کی کاروبار میں تو یہ لوگ ملوث نہیں ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کا ہمارے اداروں میں کوئی کام نہیں ہو سکتا سوائے کرپشن کے یہ لوگ ہمارے اداروں میں کسی نیک مقصد سے تو بالکل بھی نہیں آتے بہتر ہے کہ ہم میں سے ایسے شخص کو چنا جائے جس کی قوم و ملت کو لے کر فکر ہو حق و انصاف کے لیے جو نڈر ہو کر بولتا اور کام کرتا ہو اگر ہم لوگ ایسے لوگوں کو اگے لے کر نہیں بڑھیں گے جو بھلے ہی غریب طبقے سے ہو جو بھلے ہی بہت بڑے کوئی کاروباری نہ ہو لیکن ملک قوم کے لیے اگے بڑھ کر کام کرنے والے ہو ایسے لوگوں کی ضرورت بہت ہے ہمارا تعلیم یافتہ طبق

ڈاکٹرز انجینیئرز اچھے کاروباری ایسے لوگ ہی ملک و قوم کے صحیح رہنمائی کر سکتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین جو کہ ہمارے قوم سے ہوں جن کا اس وقت کا ریکارڈ صحیح ہو جب یہ لوگ سرکاری اداروں میں کام کیا کرتے تھے ایسے لوگوں کو ہماری اداروں کی سربراہی کے لیے قوم کی رہنمائی کے لیے چنا جانا بہت زیادہ ضروری ہے اور ملت کے نوجوانوں کو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو نڈر نوجوانوں کو بے خوف نوجوانوں کو اور قابل نوجوانوں کو اگے بڑھانا ان کی صحیح رہنمائی کرنا ان کو مستقبل کے لیے تیار کرنا یہ ہم لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے اور ایسی ریٹائرڈ لوگ یہ کام بالکل صحیح طریقے سے کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومت کے قریب رہ کر کام کرنے کا تجربہ ہوتا ہے اور یہ لوگ سیاست کی بھی اونچ نیچ بڑی اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں 

میں ہمارے ملک و قوم کے ایسے ہی ان تمام ریٹائرڈ لوگوں سے اور وہ لوگ جو حال میں سرکاری نوکر بھی ہے ان سے اپیل کرتا ہوں کہ اپ اپنا تجربہ اپنی قوم کے نوجوانوں کے ساتھ بانٹیں ان کو صحیح سیاسی سماجی تعلیمی مشورہ دیں ان کو قابل بنائیں ان کے اندر کے ڈر کو بھگائیں ان کے اندر خود اعتمادی کو بڑھائیں تاکہ اگے چل کر یہی لوگ قوم و ملت اسلامیہ کی صحیح رہنمائی کریں ‌‌‍‌ اور ملک وقوم کی  خدمت میں خود کو لگائیں اور ان سے ملت کا فائدہ ہو۔


فقط 

 

عمرفاروق ایم انعامدار 

- صدر انڈین نیشنل مسلم لیگ - صوبہ کرناٹک
 

اآ پ لوگ اپنے زریں خیالات سے اس مضمون پر اپنی نیچے کمنٹ کی صورت میں دے سکتے ہیں ۔  


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شیر ‏شاہ ‏سوری ‏

نوجوانوں کی تربیت ‏